بھٹکل، 26؍مئی (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ سرکاری اسپتال میں آج کل مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ بیرون تعلقہ اور بیرون اضلاع سے آنے والے کووڈ مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں کچھ تشویش پیدا ہورہی ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو پھر یہاں کے مریضوں کے لئے آئندہ بستروں کی قلت جیسی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
سمجھا جارہا ہے کہ جدید سہولتوں، بہتر انتظامات اور صفائی و ستھرائی کے لحاظ سے بھٹکل کا سرکاری اسپتال پورے ضلع کے لئے ایک ماڈل کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس وجہ سے کورونا کی دوسری لہر کے دوران سانس کی تکلیف، آکسیجن کی کمی وغیرہ سے پریشان مریض آج کل سرسی، یلاپور، کاروار، کمٹہ، اڈپی، شیموگہ، کنداپور وغیرہ سے بھٹکل سرکاری اسپتال میں آنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ بنگلورو سے آکسیجن سہولت والی ایمبولینس میں بھاسکر نامی مریض یہاں پہنچ کر صحت یاب ہونے کے بعد اس طرح کے بیرونی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اور ان میں سے بہت سارے مریض صحت یاب ہوکر واپس لوٹ گئے ہیں۔
اس صورت حال سے درپیش مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک سماجی خدمت گارنے کہا کہ کووڈ متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دیہی علاقوں میں کئی مقامات پر کنٹینمنٹ زون بنائے گئے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی پیچیدہ اور سنگین صورت حال پیدا ہوتی ہے تو بھٹکل تعلقہ کے لئے ایک ہی بہترین اسپتال ہے اور اگر وہ بھی بیرونی مریضوں سے بھر جائے گا تو پھر مقامی لوگ کیا کریں گے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی صورت میں مقامی مریضوں کے علاج و معالجہ کے لئے کوئی سہولت فراہم کرنے کا ابھی سے انتظام کیا جائے۔
دوسری طرف بھٹکل تعلقہ اسپتال کی ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر سویتا کامت کا کہنا ہے کہ اس اسپتال میں بیرون ضلع اور بیرون تعلقہ سے کووڈ متاثرین علاج کے لئے آرہے ہیں۔ ان مریضوں کو واپس بھیجنے کا ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسپتال میں اس وقت 44 کووڈ مریض داخل ہیں۔ ان میں سے 10 مریض بیرون ضلع اور بیرون تعلقہ کے رہنے والے ہیں۔